Sunday, January 17, 2021

”ہنڑ او گلاں نہی رہیاں “

 تحریر محمد عمر جنجوعہ 

”ہنڑ او گلاں نہی رہیاں “


جناب عمران خان صاحب کی حکومت سابقہ حکومتوں کے لحاظ سے بہت حد تک مختلف ہے جس کا  اکثریتی  حکومت ، حزب اختلاف ، اور میڈیا کے  پیشہ ور شخصیات  کو ادراک نہی ہو پا رہا۔ 

لیکن ظاہر ہے سیاسی کاکن اور سپورٹرز تو سمجھنا چاہتے ہی نہی بلکہ ان سب کا 

” کَاں تو ہمیشہ ہی  ِچٹا  رہتا ہے“ 

 تو ان پر بات کرنا وقت کی  فضول خرچی  ہے 


آج تک جس راوئتی انداز میں  پاکستان کا  نظام حکومت  چل رہا تھا اس میں بتدریج تبدیلی آ رہی ہے سوال یہ کہ وہ کیسے ؟ تو یاد دہانی کے لیے بتاتا چلوں  کہ طرز حکومت کیا تھا اور اب کیا ہے ؟  


تو جناب ہم سب خوب اچھی طرح واقف ہیں اس سے پہلے دو شاہی خاندان کی دو  سیاسی  پارٹیوں نہی بلکہ دو  لمیٹیڈ کمپنیوں کی حکومتوں کی باریاں لگی ہوئی تھیں اور ان دونوں حکمران خاندانوں نے بطور مددگار  اپنے اپنے ہم نوالہ ہم پیالہ قسم کے بیروکریٹس ،  میڈیا گروپس  اور  شخصیات بلکہ عدلیہ کے کچھ ججز تک پال رکھے تھے۔ 


ایک مخصوص قسم کا منافقانہ طرز حکومت  جاری تھا جیسے ایک  حمام میں سب ننگے ہوں۔ 

 ایک ہی نعرے پر دونوں خاندان ایک دوسرے کے خلاف مقدمے بناتے  اور ایک  دوسرے کی حکومتیں گراتے آ رہے تھے۔ اس سارے عمل کے درمیان  ان کے اپنے اپنے بیروکیریٹس ، ججز اور میڈیا شخصیات اور مالکان اہم کردار ادا کرتی تھیں۔ 


گویا ان کے  مددگار گروپس کی ایک مخصوص فطرت بن چکی ہے کچھ صحافی دونوں شاہی خاندانوں سے راہ و رسم رکھنے کی وجہ سے پیغام رسانی کا کردار ادا کرتے،  پھر  ظاہر ہے اس تعلق کی بنیاد پر انہیں مراعات بھی ملتی تھیں  اسی طرح ججز ار بیروکریٹس  اپنے اپنے مفادات حاصل کرنے کے عادی بن چکے تھے۔ 

مقدمات  تو دونوں شاہی خاندان ایک دوسرے کے خلاف حق اور سچ پر ممبنی بناتے لیکن پیروی سب جعلی ہوتی رہتی تھی جس کو بے اثر کرنے میں میڈیا شخصیات ، ججز اور بیروکریٹس اہم کردار ادا کرتے ۔ اس سے سے دونوں شاہی خاندان نا صرف امیر سے امیر تر ہو تے گیے بلکہ ان کے ہمنوا ہم نوالہ ہم پیالہ مندرجہ بالا تمام تین دھڑے یعنی میڈیا ، عدلیہ اور بیروکریسی کی جائیدادیں اور بنک اکونٹس بھی  بڑھتے رہتے تھے اور آخر میں  دونوں شاہی خاندان تمام تر نورا کشتی کے بعد اس یقین دہانی کے بعد اقتدار دوسرے کو حوالے کرتے کہ مقدمات ختم کر دہے جایں گے اور نیے بدعنوانی کے کیس نہی بناے جایں گے اس طرح باہمی تعاون سے  جمہوریت کا بول بالا رہتا اور سب ہنسی خوشی اپنی باری کا شور مچا مچا کر انتظار کرتے تھے۔ 

 

 تو یہ تھا طرز حکومت جو جناب عمران خان صاحب کی حکومت کے آنے سے پہلے تک جاری تھا۔ 

اب مسلہ یہ ہو گیا ہے کہ موجودہ وزیر اعظم سابقہ  دونوں شاہی خاندانوں کے ایک دوسرے کے خلاف بنے مقدمات کو ختم کرنے کی بجاے ان کو پاے تکمیل تک پہنچانے پر بضد ہے اور کسی پیشہ ور  سہولت کار کو گھاس ڈالنے پر بھی راضی نہیں ہے 


 مخصوص صحافی حضرات اپنی  پرانی فطرت اور رسم  کے مطابق جناب وزیر اعظم کو راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ” جناب ہتھ ہولا رکھو“ 

اب جب ان کی بات نہی سنی جا رہی تو وہ حکومت کے جانے کا شوشہ چھوڑ رہے ہیں جیسا کہ پہلے ہوتا تھا لیکن شاید یہی وجہ ہے کہ ان صحافی حضرات اور بیروکریٹس کو یہ تبدیلی ہضم  نہی ہو رہی ہے جس سے ان کی انا کا بھی مسلہ بنتا جا رہا ہے کیونکہ پہلے تو شاہی خاندان کے شاہی معالج کی حیثیت سے ان سب کا  بڑا شان و شوکت سے استقبال بھی ہوتا تھا مراعات بھی ملتی تھیں یعنی سیرو سیاحت کے مواقع علیحدہ شامل ہوتے تھے۔ 


”ہنڑ او گلاں نہی رہیاں “

جس کی وجہ سے پیالی میں طوفان لانے کی کوشش کی جا رہی ہے  

میں زاتی طور  پی ٹی آئی کے تمام سیاسی رہنماوں کا سپورٹر نہی ہوں لیکن جس طرح  جناب عمران خان صاحب نے ذاتی حیثیت میں  امانت اور دیانت کا الم بلند رکھے ہوا ہے   تو کوئی بعید نہی کہ جلد یا بدیر یہ خوبیاں نیچے تک پہنچ جایں گیں انشاء اللہ 

پاکستان زندہ باد