Wednesday, October 17, 2012

Angels Animals & Human


فرشتے، جانور اور انسان



  فرشتے، جانور اور انسان اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے عقل دی ہے اور وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر رہتے ہیں ۔ اس بنا پر ان کی عقل ہمیشہ غالب رہتی ہے اور وہ کبھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے۔ ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تکمیل میں گزرتا ہے۔ وہ ہمیشہ اس کے بندے بن کر رہتے ہیں اور اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔


جانوروں کو اللہ تعالیٰ نے عقل نہیں دی بلکہ خواہشات سے نوازا ہے۔ ان کی پوری زندگی خوراک کی تلاش، جنسی تسکین اور دیگر جبلی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے گزر جاتی ہے۔ ان کے ہاں کوئی اخلاقی اصول نہیں ہوتا اور Might is Right   کے اصول کے تحت بڑی مچھلی چھوٹی کو کھا جاتی ہے۔ جانوروں کی زندگی کا مقصد بھوک مٹانے، جنسی خواہش کی تکمیل اور نیند پوری کرنے کے اور کچھ نہیں ہوتا۔

    ان دونوں کے مقابلے میں انسان کو اللہ تعالیٰ نے خواہشوں  اور عقل دونوں سے نوازا ہے۔ انسان کا ڈائرکٹ تعلق اللہ تعالیٰ سے نہیں جس کی وجہ سے وہ ہر دم نیکی کرنے کے لئے تازہ دم ہو۔ اسے یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ چاہے تو عقل کو خواہشات پر حاکم بنا لے اور چاہے تو خواہشات کا غلام بن کر زندگی بسر کرے۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر انسان عقل کو خواہشات پر غالب کرلے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا مقام فرشتوں سے بھی بلند ہو جاتا ہے اور اگر اس کی خواہشات، عقل پر حکمرانی کرنے لگیں تو اس کا درجہ جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔ جانور تو اللہ کی سزا سے بچ جائیں گے لیکن انسان اس سے بچ نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی جیسی جنت انسانوں کو میسر ہوگی ویسی فرشتوں کو نہ ہو سکے گی۔ ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہیئے کہ ہماری زندگی کیسی گزر رہی ہے



.¤*¨¨*¤.¸¸...¸.¤\
\¸. PAKISTAN ,.,\
.\¸.¤*¨¨*¤.¸¸.¸.¤*
..\
☻/
/▌
/ \ PaK!sTaN Z!nDAbAaD...


AND LOCK GET OPENED

اور تالہ کھل گیا

اس کی ناکام کوشش اب جھنجھلاہٹ میں تبدیل ہوچکی تھی۔ وہ کافی دیر سے تالے کے ساتھ زورآزمائی کر رہا تھا۔ ''کنجی تو بظاہر صحیح ہے۔ یقیناً تالے کے اندر کوئی خرابی ہے جس کی وجہ سے تالا کھل نہیں رہا'' اس نے سوچا۔ اس کا غصہ اب اس درجے پر پہنچ چکا تھا کہ اگلا مرحلہ صرف یہ تھا کہ تالا کھولنے کے لیے وہ کنجی کے بجائے ہتھوڑے کا استعمال شروع کردے۔

    اتنے میں اس کے میزبان رفیق احمدصاحب آگئے۔ ''کیا تالا نہیں کھل رہا ہے ؟'' انہوں نے کنجی اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔ اچھا آپ کنجی غلط لگا رہے تھے۔ اصل میں آج ہی میں نے اس کا تالا بدل دیا ہے۔ مگر میں نئی کنجی چھلّے میں ڈالنا بھول گیا۔ اس کی کنجی دوسری ہے ''۔ اس کے بعد انہوں نے جیب سے دوسری کنجی نکالی اور دم بھر میں تالا کھل چکا تھا۔



  زمانہ جب بدلتا ہے تو ایساہی حال ان لوگوں کا ہو جاتا ہے جو ماضی کی صلاحیت کی بنیاد پر حال کی دنیا میں اپنی قیمت وصول کرنا چاہیں۔ نئے زمانہ میں زندگی کے دروازوں کے تمام تالے بدل چکے ہوتے ہیں۔ مگر وہ پرانی کنجیوں کا گچھا لیے ہوئے نئے تالوں کے ساتھ زور آزمائی کرتے رہتے ہیں۔ اور جب ان کی پرانی کنجیوں سے نئے تالے نہیں کھلتے تو کبھی تالا بنانے والے پر اور کبھی سارے ماحول پر خفا ہوتے ہیں۔ حالانکہ جب تالے بدل چکے ہوں تو ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ پرانی کنجیوں سے نئے تالے کھل جائیں۔

    حقیقت نگاری کے دور میں جذباتی تقریریں اور تحریریں، اہلیت کی بنا پر حقوق حاصل کرنے کے دور میں رزرویشن کے مطالبے، تعمیری استحکام  کے ذریعہ اوپر اٹھنے کے دور میں جلسوں اور جلوسوں کے ذریعہ قوم کا مستقبل برآمد کرنے کی کوشش، سماجی بنیادوں کی اہمیت کے زمانے میں سیاسی سودے بازی کے ذریعہ ترقی کے منصوبے، یہ سب اسی کی مثالیں ہیں۔


یہ ماضی کے معیاروں پر حال کی دنیا سے اپنے لیے زندگی کا حق وصول کرنا ہے جو کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ ایسے لوگوں کا انجام موجودہ دنیا میں صرف یہ ہے کہ وہ نفسیاتی مریض ہو کر رہ جائیں۔ جو کچھ ان کو بربنائے حق نہیں ملا ہے اس کو سمجھیں کہ وہ بربنائے ظلم ان کو نہیں مل رہا ہے اور پھر ہمیشہ  کے لیے منفی ذہنیت کا شکار ہو کر رہ جائی



.¤*¨¨*¤.¸¸...¸.¤\
\¸. PAKISTAN ,.,\
.\¸.¤*¨¨*¤.¸¸.¸.¤*
..\
☻/
/▌
/ \ PaK!sTaN Z!nDAbAaD...