Thursday, December 13, 2012

Wednesday, December 5, 2012

Tuesday, November 27, 2012

Change Of Name



Happy moments, Praise God ,Painful moments, Trust God , Every moment, Thank God
(¸..´ (¸..´ ..´ ¸¸..¨¯`.*
.

Thursday, November 22, 2012

Qeema Wala Nan



.¤*¨¨*¤.¸¸...¸.¤\
\¸. PAKISTAN ,.,\
.\¸.¤*¨¨*¤.¸¸.¸.¤*
..\
☻/
/▌
/ \ PaK!sTaN Z!nDAbAaD...


Thursday, November 8, 2012

Political Journey




.¤*¨¨*¤.¸¸...¸.¤\
\¸. PAKISTAN ,.,\
.\¸.¤*¨¨*¤.¸¸.¸.¤*
..\
☻/
/▌
/ \ PaK!sTaN Z!nDAbAaD...


Tuesday, November 6, 2012

Amir Kan Afridi & a President Of Iran



--



.¤*¨¨*¤.¸¸...¸.¤\
\¸. PAKISTAN ,.,\
.\¸.¤*¨¨*¤.¸¸.¸.¤*
..\
☻/
/▌
/ \ PaK!sTaN Z!nDAbAaD...


Friday, November 2, 2012

NEW ELECTORAL SYSTEM

موجودہ نظام انتخابات اور متناسب نمائندگی کا نظام
 
متناسب نمائندگی کا نظام اس وقت دنیا کے تقریباً 50 ممالک میں مختلف شکلوں میں رائج ہے مثلاً آسٹریا، ہنگری، سوئٹزرلینڈ، شمالی یورپ، بلجیئم، ہالینڈ، ڈنمارک، ناروے، سویڈن، جرمنی، فرانس، ترکی، سری لنکا اور اس طرح کئی دیگر ممالک میں اس نظام کے تحت انتخابات ہو چکے ہیں، مختلف ممالک نے اپنے مخصوص حالات کے تناظر میں اس تصور میں جسب ضرورت
تبدیلیاں کر کے اس نظام کو اپنے ہاں رائج کیا ہوا ہے اس لئے متناسب نمائندگی کے نظام کی مختلف شکلیں مختلف ممالک میں پائی جاتی ہیں۔ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے جس کی بنیاد اسلام ہے۔ قرارداد مقاصد نے آئین پاکستان میں اس کی نظریاتی اساس کا تعین کر دیا ہے، قرارداد مقاصد جمہوری اور قرآن و سنت میں وضع کئے گئے اصولوں کے عین مطابق ہے۔

متناسب نمائندگی کے انتخابی نظام میں حلقہ وار امیدواروں کے درمیان انتخابی عمل کی بجائے سیاسی جماعتوں کے درمیان انتخابی عمل ہوتا ہے اور ہر سیاسی جماعت کو مجموعی طور پر حاصل کردہ ووٹس کے تناسب سے اسمبلی میں نشستیں ملتی ہیں۔ متناسب نمائندگی کے نظامِ انتخاب میں ووٹرز براہِ راست سیاسی پارٹی کی قیادت اور منشور کی بنیاد پر ووٹ کاسٹ کرتے ہیں اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے لئے سیاسی جماعتوں کو بالترتیب ملک و صوبہ بھر سے ملنے والے ووٹوں کے تناسب سے نشستیں ملتی ہیں۔ سیاسی جماعتیں اسمبلیوں کی نشستوں کی تعداد کے مطابق میرٹ کی بنیاد پر اپنے باصلاحیت امیدواروں کے ناموں کی فہرستیں الیکشن کمیشن کو پیشگی مہیا کرتی ہیں جو کہ آئین کے مطابق طے کردہ اہلیت کے معیار پر بھی پورا اترتے ہوں۔ متناسب نمائندگی کے انتخابی نظام میں اگر سیاسی جماعت کو مجموعی طور پر 30 فیصد ووٹ ملتے ہیں تو انہیں اسمبلی میں حاصل کردہ ووٹوں کے تناسب سے 30 فیصد نشستیں مل جاتی ہیں۔ اسی طرح جن جماعتوں کو اس سے زیادہ یا کم ووٹ ملتے ہیں اسی مناسبت سے پارلیمنٹ میں نمائندگی بھی ملتی ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہمارا ملک اپنے مخصوص حالات کے تناظر میں اس نظام انتخاب میں حسب ضرورت تبدیلیاں کر کے اس نظام کو رائج کرسکتا ہے۔

موجودہ کرپٹ اور مہنگا نظام انتخاب جملہ مسائل کی جڑ:

ملک کے تمام سنگین مسائل کی جڑ کرپٹ نظام انتخاب ہے۔ اس کرپٹ نظام انتخاب نے قوم کو اس کی حقیقی نمائندگی سے محروم کردیا ہے۔ عوام کے 98 فیصد غریب و متوسط طبقات سے کسی امیدوار کا منتخب ہونا عملًا ناممکن ہوچکا ہے کیونکہ موجودہ نظام انتخاب کی خامیوں کی وجہ سے انتخابی حلقہ جات پر کرپٹ، سرمایہ دار، جاگیردار، وڈیروں، مافیا، بااثر اور حکومتی امیدواروں کا کنٹرول ہوچکا ہے۔ حتی کہ کسی حلقہ میں کوئی بڑی پارٹی اپنے انتہائی دیرینہ نظریاتی ورکر کومحض اس لئے ٹکٹ نہیں دیتی کہ وہ کروڑوں روپے خرچ نہیں کرسکتا۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ:

نظام انتخاب شفاف اور سستا ہو۔
نظام انتخاب حکومتی، بااثر طبقات، سرمایہ داروں اور الیکشن کمیشن کے ناجائز اثرو رسوخ سے آزاد ہو۔
نظامِ انتخاب جعلی شناختی کارڈ سازی اور جعلی ووٹس، جانبدارانہ حلقہ بندیوں و پولنگ سکیم، الیکشن عملہ کی ملی بھگت اور پولیس انتظامیہ و غنڈہ عناصرکی ناجائز مداخلت سے پاک ہو
تشہیر، جلسوں، ٹرانسپورٹ، الیکشن کیمپوں کے اخراجات اور سرمایہ کے ذریعے ووٹرز کی رائے پر اثر انداز ہونے جیسی انتخابی دھاندلیوں سے چھٹکارا حاصل کیا جاسکے۔
نظام انتخاب عبوری حکومتوں، لوکل باڈیز اداروں اور الیکشن کمیشن کے ناجائز اثرو رسوخ سے آزاد ہو تاکہ سیاسی جماعتیں تمام تر مصلحتوں سے بالاتر ہوکر غریب و متوسط باصلاحیت کارکنان کو میرٹ پر اسمبلیوں میں نمائندگی کے لئے نامزد کرسکیں۔
تاکہ سیاسی جماعتوں کو اقتدار کے حصول کے لئے کوئی ڈیل نہ کرنا پڑے اورنہ ہی انہیں اسکے لئے غیر فطری اتحاد بنانا پڑیں بلکہ سیاسی جماعتیں عوامی ایشوز پر اپنا حقیقی کردار ادا کرسکیں۔

موجودہ کرپٹ اور مہنگے اِنتخابی نظام کی وجہ سے تقریباً 70 فیصد قوم انتخابات سے کلیتاً لاتعلق ہوگئی ہے اور قوم اپنے بنیادی آئینی و انسانی حقوق سے محروم ہوگئی ہے۔ لہٰذا یہ ملک و قوم کے ریاستی و مقتدر اداروں بشمول عدلیہ، قانون ساز اداروں، سیاسی پارٹیز و اراکین پارلیمنٹ، میڈیا، سیاسی جماعتوں، دانشور و وکلاء طبقات کی آئینی، قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اس انتہائی اہم قومی حساس مسئلہ کے حل پر توجہ دیں اور ملک وقوم کو موجودہ کرپٹ انتخابی نظام سے چھٹکارا دلاکر شفاف نظام انتخاب مہیا کریں۔

جب تک قوم بلکہ آئندہ نسل کو مثبت اور بامقصد تعلیم نہیں ملے گی، اسوقت تک قومی و ملی شعور بیدار نہیں ہوسکتا۔ آپ چاہے سارے مل کے لاکھوں جلسے کر لیں، ہزاروں تقریریں کرلیں، سینکڑوں بار الیکشن کروا لیں، اور چہرے بدل بدل نئے سے نئے لٹیرے امپورٹد یا لوکل لیڈر کو ایوانِ اقتدار تک لے جائیں۔ قوم کا مقدر نہیں بدلے گا۔

اگر مقدر بدلنا ہے تو آئندہ نسل کو شعورِمقصدیت کے ساتھ تیارکرنا ہوگا۔ وہ جب عملی زندگی میں ہرشعبہء زندگی میں جائیں گے تو تبدیلی کے لیے راہ ہموار ہوگی اور جب تک پوری قوم کا شعور بیدار نہ ہوگا کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ بلکہ حالات بد سے بدتر ہوتے چلے جائیں گے



Like To Speak The truth ---------------- BUT




.¤*¨¨*¤.¸¸...¸.¤\
\¸. PAKISTAN ,.,\
.\¸.¤*¨¨*¤.¸¸.¸.¤*
..\
☻/
/▌
/ \ PaK!sTaN Z!nDAbAaD...


Which Reporting is True



.¤*¨¨*¤.¸¸...¸.¤\
\¸. PAKISTAN ,.,\
.\¸.¤*¨¨*¤.¸¸.¸.¤*
..\
☻/
/▌
/ \ PaK!sTaN Z!nDAbAaD...


Monday, October 29, 2012

Shahid Afrii



--



.¤*¨¨*¤.¸¸...¸.¤\
\¸. PAKISTAN ,.,\
.\¸.¤*¨¨*¤.¸¸.¸.¤*
..\
☻/
/▌
/ \ PaK!sTaN Z!nDAbAaD...


Saturday, October 27, 2012

Bashir Bilour Shake Hands with Angelina Jolie



--



.¤*¨¨*¤.¸¸...¸.¤\
\¸. PAKISTAN ,.,\
.\¸.¤*¨¨*¤.¸¸.¸.¤*
..\
☻/
/▌
/ \ PaK!sTaN Z!nDAbAaD...


Sheikh Jeeeeeeeeeeeeeeee Kay Puranay Yaraaanay



--



.¤*¨¨*¤.¸¸...¸.¤\
\¸. PAKISTAN ,.,\
.\¸.¤*¨¨*¤.¸¸.¸.¤*
..\
☻/
/▌
/ \ PaK!sTaN Z!nDAbAaD...


Sunday, October 21, 2012

It All About Pakistan Print & Electronic Media




.¤*¨¨*¤.¸¸...¸.¤\
\¸. PAKISTAN ,.,\
.\¸.¤*¨¨*¤.¸¸.¸.¤*
..\
☻/
/▌
/ \ PaK!sTaN Z!nDAbAaD...


Saturday, October 20, 2012

GEO




.¤*¨¨*¤.¸¸...¸.¤\
\¸. PAKISTAN ,.,\
.\¸.¤*¨¨*¤.¸¸.¸.¤*
..\
☻/
/▌
/ \ PaK!sTaN Z!nDAbAaD...


Thursday, October 18, 2012

Wake up for Fajr Salaah

Wake up for Fajr Salaah

A man woke up early in order to pray the fajr prayer in the masjid. He got dressed, made his ablution and was on his way to the masjid. On his way to the masjid, the man fell and his clothes got dirty.

He got up, brushed himself off and headed home. At home, he changed his clothes, made his ablution and was again, on his way to the masjid.

On his way to the masjid, he fell again and at the same spot! He again, got up, brushed himself off and headed home. At home he, once again changed his clothes, made his ablution and was on his way to the masjid.

On his way to the masjid, he met a man holding a lamp. He asked the man of his identity and the man replied I saw you fall twice on your way to the masjid, so I brought a lamp so I can light your way.' The first man thanked him profusively and the two were on their way to the masjid.

Once at the masjid, the first man asked the man with the lamp to come in and pray Fajr with him. The second man refused. The first man asked him a couple more times and, again, the answer was the same. The first man asked him why he did not wish to come in and pray. The man replied,

I am Satan. The man was shocked at this reply. Satan went on to explain, 'I saw you on your way to the masjid and it was I who made you fall. When you went home, cleaned yourself and went back on your way to the masjid, Allah forgave all of your sins. I made you fall a second time, and even that did not encourage you to stay home but rather, you went back on your way to the masjid.

Because of that, Allah forgave all the sins of the people of your household .

I was AFRAID if I made you fall one more time, then Allah will forgive the sins of the people of your village, so I made sure that you reached the masjid safely.'

So DO NOT let Satan benefit from his actions. DO NOT put off a good that you intended to do as you never know how much reward you might receive from the hardships you encounter while trying to achieve that good.

Imagine that when you forward this, you receive good deeds, and so will I for sending it to you! Wouldn't it be easy just to Press 'Forward' and receive this Reward?


May Allah Subhanahu Wata'ala grant us perfect Muslim Heart and we all do our Prayers with all our Heart and Soul... Ameen...

.¤*¨¨*¤.¸¸...¸.¤\
\¸. PAKISTAN ,.,\
.\¸.¤*¨¨*¤.¸¸.¸.¤*
..\
☻/
/▌
/ \ PaK!sTaN Z!nDAbAaD...






Wednesday, October 17, 2012

Angels Animals & Human


فرشتے، جانور اور انسان



  فرشتے، جانور اور انسان اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے عقل دی ہے اور وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کے دربار میں حاضر رہتے ہیں ۔ اس بنا پر ان کی عقل ہمیشہ غالب رہتی ہے اور وہ کبھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کرتے۔ ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تکمیل میں گزرتا ہے۔ وہ ہمیشہ اس کے بندے بن کر رہتے ہیں اور اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے۔


جانوروں کو اللہ تعالیٰ نے عقل نہیں دی بلکہ خواہشات سے نوازا ہے۔ ان کی پوری زندگی خوراک کی تلاش، جنسی تسکین اور دیگر جبلی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے گزر جاتی ہے۔ ان کے ہاں کوئی اخلاقی اصول نہیں ہوتا اور Might is Right   کے اصول کے تحت بڑی مچھلی چھوٹی کو کھا جاتی ہے۔ جانوروں کی زندگی کا مقصد بھوک مٹانے، جنسی خواہش کی تکمیل اور نیند پوری کرنے کے اور کچھ نہیں ہوتا۔

    ان دونوں کے مقابلے میں انسان کو اللہ تعالیٰ نے خواہشوں  اور عقل دونوں سے نوازا ہے۔ انسان کا ڈائرکٹ تعلق اللہ تعالیٰ سے نہیں جس کی وجہ سے وہ ہر دم نیکی کرنے کے لئے تازہ دم ہو۔ اسے یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ چاہے تو عقل کو خواہشات پر حاکم بنا لے اور چاہے تو خواہشات کا غلام بن کر زندگی بسر کرے۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر انسان عقل کو خواہشات پر غالب کرلے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا مقام فرشتوں سے بھی بلند ہو جاتا ہے اور اگر اس کی خواہشات، عقل پر حکمرانی کرنے لگیں تو اس کا درجہ جانوروں سے بھی بدتر ہو جاتا ہے۔ جانور تو اللہ کی سزا سے بچ جائیں گے لیکن انسان اس سے بچ نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی جیسی جنت انسانوں کو میسر ہوگی ویسی فرشتوں کو نہ ہو سکے گی۔ ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہیئے کہ ہماری زندگی کیسی گزر رہی ہے



.¤*¨¨*¤.¸¸...¸.¤\
\¸. PAKISTAN ,.,\
.\¸.¤*¨¨*¤.¸¸.¸.¤*
..\
☻/
/▌
/ \ PaK!sTaN Z!nDAbAaD...


AND LOCK GET OPENED

اور تالہ کھل گیا

اس کی ناکام کوشش اب جھنجھلاہٹ میں تبدیل ہوچکی تھی۔ وہ کافی دیر سے تالے کے ساتھ زورآزمائی کر رہا تھا۔ ''کنجی تو بظاہر صحیح ہے۔ یقیناً تالے کے اندر کوئی خرابی ہے جس کی وجہ سے تالا کھل نہیں رہا'' اس نے سوچا۔ اس کا غصہ اب اس درجے پر پہنچ چکا تھا کہ اگلا مرحلہ صرف یہ تھا کہ تالا کھولنے کے لیے وہ کنجی کے بجائے ہتھوڑے کا استعمال شروع کردے۔

    اتنے میں اس کے میزبان رفیق احمدصاحب آگئے۔ ''کیا تالا نہیں کھل رہا ہے ؟'' انہوں نے کنجی اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔ اچھا آپ کنجی غلط لگا رہے تھے۔ اصل میں آج ہی میں نے اس کا تالا بدل دیا ہے۔ مگر میں نئی کنجی چھلّے میں ڈالنا بھول گیا۔ اس کی کنجی دوسری ہے ''۔ اس کے بعد انہوں نے جیب سے دوسری کنجی نکالی اور دم بھر میں تالا کھل چکا تھا۔



  زمانہ جب بدلتا ہے تو ایساہی حال ان لوگوں کا ہو جاتا ہے جو ماضی کی صلاحیت کی بنیاد پر حال کی دنیا میں اپنی قیمت وصول کرنا چاہیں۔ نئے زمانہ میں زندگی کے دروازوں کے تمام تالے بدل چکے ہوتے ہیں۔ مگر وہ پرانی کنجیوں کا گچھا لیے ہوئے نئے تالوں کے ساتھ زور آزمائی کرتے رہتے ہیں۔ اور جب ان کی پرانی کنجیوں سے نئے تالے نہیں کھلتے تو کبھی تالا بنانے والے پر اور کبھی سارے ماحول پر خفا ہوتے ہیں۔ حالانکہ جب تالے بدل چکے ہوں تو ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ پرانی کنجیوں سے نئے تالے کھل جائیں۔

    حقیقت نگاری کے دور میں جذباتی تقریریں اور تحریریں، اہلیت کی بنا پر حقوق حاصل کرنے کے دور میں رزرویشن کے مطالبے، تعمیری استحکام  کے ذریعہ اوپر اٹھنے کے دور میں جلسوں اور جلوسوں کے ذریعہ قوم کا مستقبل برآمد کرنے کی کوشش، سماجی بنیادوں کی اہمیت کے زمانے میں سیاسی سودے بازی کے ذریعہ ترقی کے منصوبے، یہ سب اسی کی مثالیں ہیں۔


یہ ماضی کے معیاروں پر حال کی دنیا سے اپنے لیے زندگی کا حق وصول کرنا ہے جو کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ ایسے لوگوں کا انجام موجودہ دنیا میں صرف یہ ہے کہ وہ نفسیاتی مریض ہو کر رہ جائیں۔ جو کچھ ان کو بربنائے حق نہیں ملا ہے اس کو سمجھیں کہ وہ بربنائے ظلم ان کو نہیں مل رہا ہے اور پھر ہمیشہ  کے لیے منفی ذہنیت کا شکار ہو کر رہ جائی



.¤*¨¨*¤.¸¸...¸.¤\
\¸. PAKISTAN ,.,\
.\¸.¤*¨¨*¤.¸¸.¸.¤*
..\
☻/
/▌
/ \ PaK!sTaN Z!nDAbAaD...


Tuesday, October 16, 2012

Shahbaz Sharif Visiting Poor in Flood But Eating Roti Himself



--












.¤*¨¨*¤.¸¸...¸.¤\
\¸. PAKISTAN ,.,\
.\¸.¤*¨¨*¤.¸¸.¸.¤*
..\
☻/
/▌
/ \ PaK!sTaN Z!nDAbAaD...


Sunday, October 14, 2012

Some Poetry





.¤*¨¨*¤.¸¸...¸.¤\
\¸. PAKISTAN ,.,\
.\¸.¤*¨¨*¤.¸¸.¸.¤*
..\
☻/
/▌
/ \ PaK!sTaN Z!nDAbAaD...


Its All About Attitude



--
.¤*¨¨*¤.¸¸...¸.¤\
\¸. PAKISTAN ,.,\

.\¸.¤*¨¨*¤.¸¸.¸.¤*

..\

☻/

/▌

/ \ PaK!sTaN Z!nDAbAaD...

Political Scenario of Pakistan







.¤*¨¨*¤.¸¸...¸.¤\

\¸. PAKISTAN ,.,\
.\¸.¤*¨¨*¤.¸¸.¸.¤*
..\
☻/
/▌
/ \ PaK!sTaN Z!nDAbAaD...

Friday, October 12, 2012

A Cup Of Cofee On Wall

ہم دونوں دوست ، پانیوں اور روشنیوں  کے شہر  وینس  کےایک  نواحی قصبے کی مشہور کافی شاپ پر بیٹھے ہوئے کافی سے لظف اندوز ہو رہے تھے کہ  اس کافی شاپ میں ایک گاہک داخل ہوا  جو  ہمارے ساتھ والی  میز کو خالی پا کر یہاں  آ کر بیٹھ گیا۔ اس نے بیٹھتے ہی بیرے کو آواز دیکر بلایا اور اپنا آرڈر یوں  دیا؛  دو کپ کافی لاؤ، اور اس میں سے ایک وہاں دیوار پر۔
 ہم نے اس  شخص کےاس انوکھے  آرڈر کو دلچپسی سے سنا۔  بیرے نے آرڈر کی تعمیل کرتے ہوئے  محض ایک کافی کا کپ اس کے سامنے لا کر رکھ دیا۔ اس صاحب نے کافی  کا  وہ ایک کپ نوش کیا مگر پیسے دو کے ادا کئے۔ اس گاہک کے جاتے ہی بیرے نے دیوار پر جا کر ایک ورقہ چسپاں کر دیا   جس پر لکھا تھا؛ ایک کپ کافی۔  
ہمارے وہاں بیٹھے بیٹھے دو اور گاہک آئے جنہوں نے تین کپ کافی کا آرڈر دیا، دو ان کی میز پر اور ایک دیوار پر، پیئے تو انہوں نے دو ہی کپ، مگر ادائیگی تین کپ کی اور چلتے بنے۔ ان کے جانے کے بعد بھی بیرے نے ویسا ہی کیا، جا کر دیوار پر ایک اور ورقہ چسپاں کردیا جس پر لکھا تھا؛ ایک کپ کافی۔
ایسا لگتا تھا یہاں ایسا ہونا معمول کی بات ہے مگر ہمارے لئے انوکھا اور ناقابل فہم تھا۔ خیر، ہمیں کونسا اس معاملے سے کچھ لینا دیا تھا، ہم نے اپنی کافی ختم کی، پیسے ادا کیئے  اور چلتے بنے۔
چند دنوں کے بعد ہمیں ایک بار پھر اس کافی شاپ پر جانے کا اتفاق ہوا۔ ہم بیٹھے کافی سے لطف اندوز ہو  رہے تھے کہ یہاں ایک ایسا شخص داخل ہوا جس کے کپڑے اس کافی شاپ کی حیثیت اور یہاں کے ماحول سے قطعی میل نہیں کھا رہے تھے۔ غربت اس شخص کے چہرے سے عیاں تھی۔ اس شخص نے بیٹھتے ہی  پہلے دیوار کی طرف دیکھا اور پھر بیرے کو بلایا اور کہا؛ ایک کپ کافی دیوار سے لاؤ۔ بیرے نے اپنے روایتی احترام اور عزت کے ساتھ اس شخص کو کافی پیش کی جسے پی کر یہ شخص بغیر پیسے دیئے چلتا بنا۔ ہم یہ سب  کچھ حیرت سے دیکھ رہے تھے کہ بیرے نے  دیوار  پر لگے ہوئے ورقوں میں سے ایک ورقہ اتار کر کوڑے دان میں پھینک دیا۔  اب ہمارے لئے اس بات میں کچھ چھپا نہیں رہ گیا تھا، ہمیں سارے معاملے کا پتہ چل گیا تھا۔اس قصبے کے باسیوں کی اس عظیم الشان  اور اعلیٰ انسانی قدر نے ہماری آنکھوں کو  آنسووں سے بھگو  کر رکھ دیا تھا۔
کافی نا تو ہمارے معاشرے کی ضرورت ہے اور نا ہی ہمارے لئے واجبات زندگی طرح  کی اہم کوئی کوئی چیز۔ بات تو صرف اس سوچ کی ہے کہ کسی بھی نعمت سے لطف اندوز ہوتے ہوئے آپ  ان لوگوں کا تصور ہی  کرلیں جو اس نعمت  کو اتنا ہی پسند کرتے ہیں جتنا کہ آپ مگر وہ اس کے حصول  سے محروم ہیں۔
اس بیرے کے کردار کو دیکھیئے جو صاحب حیثیت لوگوں اور ضرورتمندوں کے درمیان رابطے کا کردار نہایت خندہ پیشانی اور کھلے دل کے ساتھ لبوں پر مسکراہٹ سجائے کر رہا ہے۔
اس ضرورتمند کو دیکھیئے جو اس کافی شاپ میں اپنی عزت نفس کو مجروح کیئے بغیر ہی داخل ہوتا ہے، اور اسے یہ پوچھنے کی قطعی ضرورت پیش نہیں آئی کہ آیا اس کو ایک کپ کافی مفت میں مل سکتا ہے یا نہیں۔ اس نے دیوار پر دیکھا، کافی کا آرڈر موجود پا کر،  یہ پوچھے اور جانے بغیر ہی، کہ یہ کپ کس کی طرف سے اس کو دیئے جانے کیلئے موجود ہے، اپنے لئے ایک کپ کا آرڈر دیا،  کافی کو سرور کے ساتھ پیا اورخاموشی سے چلتا بنا۔
جب ہم اس مذکورہ بالا کہانی کی جزئیات کو جانیں گے تو ہمیں اس کہانی کے کرداروں کے ساتھ ساتھ اس دیوار کے کردار کو بھی یاد رکھنا پڑے گا  جو اس قصبے کے درد دل رکھنے والے باسیوں کی عکاس بنی ہوئی ہے۔  
(عربی سے مترجم و منقول)